Loading...
Read Article

Protest Against France in Muslim Countries

Notification Image

پچھلے تقریباً 14 سالوں سے فرانسیسی میگیزین "چارلی ہیبڈو" میں گستاخانہ خاکے شائع کیے جا رہے ہیں لیکن حال ہی میں 06 اکتوبر 2020 کو فرانس کے شہر پیرس کے ایک سکول میں تاریخ پڑھانے والے ایک استاد نے آزادی اظہار رائے کی آڑ میں اپنی کلاس کے طالب علموں کو گستاخانہ خاکے دکھائے اس کلاس میں مسلمان بچے بھی موجود تھے جن بچوں نے بعد میں گھر جا کر اپنے والدین سے ان گستاخانہ خاکوں کی شکایت کی اور جس کے بعد یہ بات بڑھتی چلی گئی اور 16 اکتوبر کو ایک مسلم نو جوان مسلمان نے اس گستاخ رسول کو قتل کر دیا۔ اس استاد کی فرانس کی حکومت کی طرف سے سرکاری سطح پر تدفین کی گئی اور 2 دن بعد سرکاری سطح پر سوگ بھی منایا گیا ۔

اس کے بعد فرانس کے حکومت نے اس شخص کی حمایت میں اعلان کیا کہ فرانس کے دو شہروں میں سرکاری عمارت پر گستاخانہ خاکوں کو آویزاں کیا جائے گا جس کے نتیجے میں گھنٹوں تک ان گستاخانہ خاکوں کو سرکاری عمارتوں پر آویزاں کیا گیا لمحہ فکریہ یہ ہے کہ فرانس کے اخبارات اور میگزین تو پہلے ہی گستاخانہ خاکوں کو اظہار رائے کے طور پر شائع کرتے تھے لیکن اب حکومت فرانس بھی ان گستاخانہ خاکوں کی مکمل حمایت کر رہی ہے۔ استاد کے قتل کے بعد فرانس کے صدر نے بیان دیا کہ چاہے کچھ بھی ہو جائے ہم ان مذہبی کارٹون کی اشتہار سے پیچھے نہیں ہٹے گئے۔ فرانس کے اس گھٹیا موقف سے پوری اسلامی دنیا کے جذبات مجروع ہوئے ہیں۔

اس پر اسلامی دنیا نےبھی سخت رد عمل دیا اور ترکی کے وزیراعظم نے بیان دیا کے فرانس کا صدر جس کا نام میکرون ہے اس کو اسلام اور مسلمانوں سے مسلئہ کیا ہے؟ صدر میکرون کو دماغی علاج کی ضرورت ہے۔

 پاکستان وزیراعظم عمران خان نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ اپکو عوام کو متحد کرنا چاہیے جیسے نیلسن منڈیلا نے کیا اور شدت پسندوں کو دور کرتے۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ اس سے دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات مجروع ہوئے ہیں۔

فرانس کے خلاف دنیا بھر میں تمام اسلامی ممالک سراپا احتجاج ہیں اور فرانس اور کی اشیاء کا بائیکاٹ جاری ہے ۔ ان حالات میں ہماری "آرگنائزیشن آف اسلامک کانفرس مطلب او آئی سی " سے درخواست ہے کہ وہ فوری اس معاملے پر اپنا اجلاس بلائیں اور ان گستاخانہ خاکوں کے خلاف ایک موثر رد عمل دیا جائے۔




Articles List