Loading...
Read Article

Spanish flu History With 5 Crore Deaths

Notification Image
سپینش فلو 1918ء سے 1920ء تک رہا اور تاریخ کی سب سے بڑی بیماری کے طور پر جانا جاتا ہے۔ اس کا سائنسی نام" انفلو انزا پینڈیمک 2018" ہے۔ اس بیماری سے دنیا کے ایک تہائی لوگ متاثر ہو گئے تھے اور اس بیماری سے متاثر ہونے والوں میں 10 فیصد لوگوں کی موت واقع ہو جاتی تھی اور اس بیماری سے کم سے کم 5 کروڑ لوگ موت کے منہ میں چلے گئے اور کچھ سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ یہ تعداد تقریباً 10 کروڑ کے قریب ہے۔اور خاص بات جو جوان لوگ 20 سے 30 سال والے تھے وہ اس سے بہت ذیادہ متاثر ہو ئے تھے۔اس بیماری کی وجہ "ایچ ون این ون" وائرس ہے یہ وہی وائرس ہے جس کی وجہ سے 2009 ء میں سوائن فلو بھی پھیلا تھا۔تحقیقات سے پتہ چلا کہ یہ بیماری امریکہ سے شروع ہو ئی۔یہ بیماری پھر امریکی فوجیوں کے ذریعے امریکہ سے یورپ میں پہنچی جہاں ورلڈ وار ون چل رہی تھی ۔چونکہ یہ جنگ خندق والی جنگ بھی کہلاتی ہے اس لیے یہاں پر کوئی احتیاطی تدابیر نہ اختیار کی جاسکی امریکی فوجی دوسرے فوجیوں کے ساتھ خندقوں میں رہتے جس سے یہ بیماری مزید پھیلتی رہی۔جو فوجی ذیادہ بیمار ہو جاتے تو ان کو انکے گھروں اور ہسپتالوں میں بھیج دیا جاتا جب فوجی اپنے گھر اور اپنے دوسرے ممالک میں پہنچتے تو یہ بیماری بھی اپنے ساتھ لے جاتے تھے۔
اس بیماری کو سپینش نام کیوں دیا جبکہ یہ بیماری سپین سے نہ پھیلی تھی۔ وجہ یہ تھی سپین جنگ عظیم اول میں کسی کا ساتھی نہ تھا۔ جب جنگ عظیم والے ممالک میں بیماری پھیلی تو انہوں نے خبر کو میڈیا پر پابندی ہونے کی وجہ سے نہ پھیلنےدیا اور جب بیماری سپین میں آئی تو انکے میڈیا نے اسکو پھیلا دیا اور جب یہ بات برطانیہ تک پہنچی تو انہوں نے اس بیماری کا نام ہی سپینش فلو رکھ دیا۔دوسری وجہ سپین کے بادشاہ اور بڑے وزرا ء بھی اس بیماری کی لپیت میں آگئے تھے۔یہ بیماری بھی تین فیزوں(حصوں) میں پھیلی پہلے فیز میں بڑی عمر کےلوگ مارے گئے اور پھر گرمیوں میں اموات کم ہو گئی اور دوبارہ سردیاں آئی تو اس دوسرے فیز میں وائرس اور مضبوط ہو گیا اور پھر نوجوان لوگوں کی بہت بڑی تعداد موت کے منہ میں چلی گئی ۔اور پھر تیسرا فیز بھی آیا جب میں کم اموات ہوئی ۔ستمبر/اکتوبر 2018ء دوسرے فیز میں سب سے ذیادہ اموات ہوئی تھیں۔جو بھی وائرس کا شکار ہوتا اس کو نمونیا کی بیماری ہو جاتی چونکہ اس دور میں نمونیا کا بھی کوئی علاج نہ تھا تو مریض کی موت ہو جاتی تھی۔اس بیماری کے ساتھ اگر کوئی دوسری بیماری لگ جاتی تو موت کا خطرہ اور بڑھ جاتا تھا۔کیونکہ یہ بیماری بھی کھانسنے /چھینکنے سے پھیلتی تھی تو اس لئے اس دور میں بھی سکول ، تھیٹر اور عوامی اجتمات پر پابندی لگا دی گئی تھی۔سپینش فلو سے امریکن ۔/675000 لوگ مارے گئے جو کہ امریکہ کی 5 فیصد آبادی تھی اور برصغیر میں 1 سے 2 کروڑ لوگ اس بیماری کی نظر ہوئے اور یہ بیماری بریٹش کے لئے لڑنے والے فوجیوں کے ذریعے بھارت پہنچی۔ اس دور میں مائیکروسکوپ وغیرہ کی اعجاد نہ ہوئی تھی اس لئے اس بیماری کا ذیادہ علاج نہ پتہ لگا اور صرف واحد حل علیحدگی عوام کی اور اچھی خوراک تھی اور پھر 1920 ء میں یہ بیماری خود ہی کنٹرول ہو گئی ۔


Articles List